10 اپریل 2012 - 19:30

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی، اس ملاقات کا اصلی مقصد، شام کے بحران کے پر امن حل کے بارے میں کوفی عنان کی پیش کردہ چھ نکاتی تجویز کے بارے میں گفتگوکرنا ہے یہ ملاقات ایسے موقع پر ہوئی ہے کہ کوفی عنان کی تجویز کے مطابق دس اپریل کو ان میں سے بعض پر عمل درآمد کرنےکااعلان کیاگیا تھا۔

ابنا: کوفی عنان کی چھ رکنی تجویز میں سب سے پہلی تجویز جنگ بندی ، رہائشی اور شورش زدہ علاقوں سے سیکورٹی فورسز کا انخلاء ہے۔ شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے، گزشتہ روز(دس اپریل) سرگئی لاروف سے ماسکو میں مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ دمشق نے دس اپریل سے پہلے ہی شام کے متعدد شہروں سے اپنی فوجیں ہٹاکر اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی تجویز پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے انہوں نے سرگئی لاروف کی موجودگی میں کہا کہ اقوام متحدہ کی تجویز کے مطابق اب تک اٹھائیس غیر ملکی صحافیوں کو شام میں داخل ہونے کی اجازت دی جاچکی ہے شام اور روس کے وزراء خارجہ کی مشترکہ نیوز کانفرنس میں سرگئی لاروف نے بھی شام کے بارے میں کوفی عنان کی تجویز کی ہر طرح سے پابندی اور شام میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ، جنگ بندی پر موافقت کا اعلان کیاہے۔

اس وقت اقوام متحدہ ، روس یہاں تک کہ چین کی بھی یہی کوشش ہے کہ شام کے بارے میں کوفی عنان کی تجویز کا مکمل طریقے سے اجراء ہو اس سلسلے میں شام کے امور میں عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ نمائندے کوفی عنان نے علاقے کے حالات کو معمول پر لانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ کہ شاید علاقے کے بعض ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی چھ رکنی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کا زمینہ فراہم کر لیں۔

روس میں ولید المعلم کے مذاکرات کے ساتھ ہی ساتھ کوفی عنان نے بھی اپنی تجویز کو کامیاب بنانے کے لئے ترکی کا سفر کیا ہے اور پھر وہاں سے ایران پہنچ گئے ہیں ایران اور انقرہ کے اعلی حکام سے مذاکرہ اور علاقے کے مسائل کے حل میں دو موثر ممالک، ترکی و ایران کے نظریے سے استفادہ کرنا کوفی عنان کے استانبول اور تہران دورے کا اصل مقصد تھا اس سلسلے میں عالمی برادری یہاں تک کہ علاقائی ممالک جتنا، اس بات کی بھرپور کوششں کر رہے ہیں کہ شام کے بارے میں کوفی عنان کی تجویز کو جلد سے جلد عملی جامہ پہنا دیں اتنا ہی عرب اور مغربی ملکوں نے شام کے خلاف اپنی سازشوں میں اضافہ کردیا ہے تاکہ کوفی عنان کی تجویز کے عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا کردیں۔

جب کہ شام کےحکومت مخالف گروہ اور مسلح افراد اپنی تشدد آمیز کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں یہ مسلہ اور اسی طرح بعض ملکوں کا شام میں دہشت گرد گروہ کی حمایت ، شورش زدہ علاقوں سے شام کے فوجیوں کے نکلنے کی خبر، شام کے حالات پر کنٹرول اور علاقوں میں ان کا نفوذ اور کوفی عنان کی تجویز کے عمل درآمد اور کوفی عنان کی تجویزکی کامیابی نے انھیں تشویش میں مبتلا کردیا ہے سرگئی لاررف نے اس حساس شرائط کو درک کرتے ہوئے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ شام میں تشدد آمیز کاروائیاں روکنے کے لئے شام کے مخالفوں پر دباء ڈالے اور اسی طرح حکومت شام سےبھی مطالبہ کیا ہے کہ کوفی عنان کی تجویز کو مکمل طریقے سے نافذ کرے۔

اسی طرح ماسکو نے صراحت کے ساتھ تمام ملکوں سے کہا ہے کہ کوفی عنان کی تجویز کا بھرپور تعاون کریں اور شام کے مسلےکو سفارتی طریقے اور مسالمت آمیز، بات چیت کے ذریعے حل کریں شام کی ارضی سالمیت اورسیاسی نظام کے اقتدار کی حفاظت کے سلسلے میں روس آج بھی اپنے اسی موقف پر ڈٹا ہے کہ دمشق، فوجی مداخلت نہ کرکے عوام کے جائزمطالبات کو پورا کرے۔ اسی بنا پر ماسکو نے دمشق سے کہا کہ اقوام متحدہ کی تجویز کا بھرپور تعاون کرے اوراسی کے ساتھ ساتھ عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیاہے کہ اس تجویز کے نتیجہ بخش ہونے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کرے۔

 ......./169